المنافقون 63:5 واذا قيل لهم تعالوا يستغفر لكم رسول الله لووا رءوسهم ورايتهم يصدون وهم مستكبرون ٥
وَاِذَا
قِیْلَ
لَهُمْ
تَعَالَوْا
یَسْتَغْفِرْ
لَكُمْ
رَسُوْلُ
اللّٰهِ
لَوَّوْا
رُءُوْسَهُمْ
وَرَاَیْتَهُمْ
یَصُدُّوْنَ
وَهُمْ
مُّسْتَكْبِرُوْنَ
۟
اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسُول تمہارے لیے مغفرت کی دُعا کرے ، تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رُکتے ہیں۔ 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ٭٭…
ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس
منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ٭٭…
ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل