القلم 68:43 خاشعة ابصارهم ترهقهم ذلة وقد كانوا يدعون الى السجود وهم سالمون ٤٣
خَاشِعَةً
اَبْصَارُهُمْ
تَرْهَقُهُمْ
ذِلَّةٌ ؕ
وَقَدْ
كَانُوْا
یُدْعَوْنَ
اِلَی
السُّجُوْدِ
وَهُمْ
سٰلِمُوْنَ
۟
ان کی نگاہیں زمین پر گڑی رہ جائیں گی ان (کے چہروں) پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ اور ان کو (دنیا میں) پکارا جاتا تھا سجدے کے لیے جبکہ یہ صحیح سالم تھے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭…
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزم
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭…
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جن