القصص 28:13 فرددناه الى امه كي تقر عينها ولا تحزن ولتعلم ان وعد الله حق ولاكن اكثرهم لا يعلمون ١٣
فَرَدَدْنٰهُ
اِلٰۤی
اُمِّهٖ
كَیْ
تَقَرَّ
عَیْنُهَا
وَلَا
تَحْزَنَ
وَلِتَعْلَمَ
اَنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ
وَّلٰكِنَّ
اَكْثَرَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠
اس طرح ہم موسیٰؑ کو1 اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،2 مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر موسیٰ علیہ السلام کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتا رہا دل میں بجز موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے اور کوئی خیال ہی
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول