القصص 28:15 ودخل المدينة على حين غفلة من اهلها فوجد فيها رجلين يقتتلان هاذا من شيعته وهاذا من عدوه فاستغاثه الذي من شيعته على الذي من عدوه فوكزه موسى فقضى عليه قال هاذا من عمل الشيطان انه عدو مضل مبين ١٥
وَدَخَلَ
الْمَدِیْنَةَ
عَلٰی
حِیْنِ
غَفْلَةٍ
مِّنْ
اَهْلِهَا
فَوَجَدَ
فِیْهَا
رَجُلَیْنِ
یَقْتَتِلٰنِ ؗۗ
هٰذَا
مِنْ
شِیْعَتِهٖ
وَهٰذَا
مِنْ
عَدُوِّهٖ ۚ
فَاسْتَغَاثَهُ
الَّذِیْ
مِنْ
شِیْعَتِهٖ
عَلَی
الَّذِیْ
مِنْ
عَدُوِّهٖ ۙ
فَوَكَزَهٗ
مُوْسٰی
فَقَضٰی
عَلَیْهِ ؗۗ
قَالَ
هٰذَا
مِنْ
عَمَلِ
الشَّیْطٰنِ ؕ
اِنَّهٗ
عَدُوٌّ
مُّضِلٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہل شہر غفلت میں تھے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ وہ آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰ نے کہا ، ” یہ شیطان کی کارفرمائی ہے ، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
گھونسے سے موت ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا “۔ یعنی نبوت دی۔ ” نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں “، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان
گھونسے سے موت ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا “۔ یعنی نبوت