القصص 28:18 فاصبح في المدينة خايفا يترقب فاذا الذي استنصره بالامس يستصرخه قال له موسى انك لغوي مبين ١٨
فَاَصْبَحَ
فِی
الْمَدِیْنَةِ
خَآىِٕفًا
یَّتَرَقَّبُ
فَاِذَا
الَّذِی
اسْتَنْصَرَهٗ
بِالْاَمْسِ
یَسْتَصْرِخُهٗ ؕ
قَالَ
لَهٗ
مُوْسٰۤی
اِنَّكَ
لَغَوِیٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
صبح ہی صبح ڈرتے1 اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راه ہے.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جسے بچایا اسی نے راز کھولا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لیے آپ علیہ السلام کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کو دیکھتے ہی کل کی ط
جسے بچایا اسی نے راز کھولا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لیے آپ علیہ السلام کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ د