القصص 28:29 ۞ فلما قضى موسى الاجل وسار باهله انس من جانب الطور نارا قال لاهله امكثوا اني انست نارا لعلي اتيكم منها بخبر او جذوة من النار لعلكم تصطلون ٢٩
فَلَمَّا
قَضٰی
مُوْسَی
الْاَجَلَ
وَسَارَ
بِاَهْلِهٖۤ
اٰنَسَ
مِنْ
جَانِبِ
الطُّوْرِ
نَارًا ۚ
قَالَ
لِاَهْلِهِ
امْكُثُوْۤا
اِنِّیْۤ
اٰنَسْتُ
نَارًا
لَّعَلِّیْۤ
اٰتِیْكُمْ
مِّنْهَا
بِخَبَرٍ
اَوْ
جَذْوَةٍ
مِّنَ
النَّارِ
لَعَلَّكُمْ
تَصْطَلُوْنَ
۟
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت1 پوری کرلی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے2 تو کوه طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ٹھہرو! میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر ﻻؤں یا آگ کا کوئی انگاره ﻻؤں تاکہ تم سینک لو.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دس سال حق مہر ٭٭…
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب موسیٰ علیہ ا
دس سال حق مہر ٭٭…
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ