القصص 28:30 فلما اتاها نودي من شاطي الواد الايمن في البقعة المباركة من الشجرة ان يا موسى اني انا الله رب العالمين ٣٠
فَلَمَّاۤ
اَتٰىهَا
نُوْدِیَ
مِنْ
شَاطِئِ
الْوَادِ
الْاَیْمَنِ
فِی
الْبُقْعَةِ
الْمُبٰرَكَةِ
مِنَ
الشَّجَرَةِ
اَنْ
یّٰمُوْسٰۤی
اِنِّیْۤ
اَنَا
اللّٰهُ
رَبُّ
الْعٰلَمِیْنَ
۟ۙ
پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے1 کہ اے موسیٰ! یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دس سال حق مہر ٭٭…
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب موسیٰ علیہ ا
دس سال حق مہر ٭٭…
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ