القصص 28:58 وكم اهلكنا من قرية بطرت معيشتها فتلك مساكنهم لم تسكن من بعدهم الا قليلا وكنا نحن الوارثين ٥٨
وَكَمْ
اَهْلَكْنَا
مِنْ
قَرْیَةٍ
بَطِرَتْ
مَعِیْشَتَهَا ۚ
فَتِلْكَ
مَسٰكِنُهُمْ
لَمْ
تُسْكَنْ
مِّنْ
بَعْدِهِمْ
اِلَّا
قَلِیْلًا ؕ
وَكُنَّا
نَحْنُ
الْوٰرِثِیْنَ
۟
اور ہم نے بہت سی وه بستیاں تباه کر دیں جو اپنی عیش و عشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہائش کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں1 اور ہم ہی ہیں آخر سب کچھ کے وارث.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭…
اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی علیہ السلام کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کر دیا کہ آ
اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭…
اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرت