القصص 28:61 افمن وعدناه وعدا حسنا فهو لاقيه كمن متعناه متاع الحياة الدنيا ثم هو يوم القيامة من المحضرين ٦١
اَفَمَنْ
وَّعَدْنٰهُ
وَعْدًا
حَسَنًا
فَهُوَ
لَاقِیْهِ
كَمَنْ
مَّتَّعْنٰهُ
مَتَاعَ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
ثُمَّ
هُوَ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
مِنَ
الْمُحْضَرِیْنَ
۟
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اس (وعدے کو) پالینے والا بھی ہے اس شخص جیسا ہوجائے گا جسے ہم نے دنیوی زندگی کا سازو سامان دے دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کر کے حاضر کیے جانے والوں میں سے ہوگا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دنیا اور اخرت کا تقابلی جائزہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اس کی رونق کی قلت و ذلت اس کی ناپائیداری بے ثباتی اور برائی بیان فرما رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کی پائیداری دوام عظمت اور قیام کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے آیت «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ وَلَنَ
دنیا اور اخرت کا تقابلی جائزہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اس کی رونق کی قلت و ذلت اس کی ناپائیداری بے ثباتی اور برائی بیان فرما رہا ہے اور اس کے مقابل