القصص 28:75 ونزعنا من كل امة شهيدا فقلنا هاتوا برهانكم فعلموا ان الحق لله وضل عنهم ما كانوا يفترون ٧٥
وَنَزَعْنَا
مِنْ
كُلِّ
اُمَّةٍ
شَهِیْدًا
فَقُلْنَا
هَاتُوْا
بُرْهَانَكُمْ
فَعَلِمُوْۤا
اَنَّ
الْحَقَّ
لِلّٰهِ
وَضَلَّ
عَنْهُمْ
مَّا
كَانُوْا
یَفْتَرُوْنَ
۟۠
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواه الگ کرلیں1 گے کہ اپنی دلیلیں پیش کرو2 پس اس وقت جان لیں گے کہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف ہے3، اور جو کچھ افترا وه جوڑتے تھے سب ان کے پاس سے کھو جائے گا.4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
افترا بندی چھوڑ دو ٭٭…
مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ ” دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں؟“
ہر امت میں سے ایک گواہ یعنی اس امت کا پیغمبر ممتاز کر لیا جائے گا۔ مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے شرک کی کوئی دلیل پیش کرو۔ اس وقت یہ یقین کر لیں گے کہ فی الواقع عبا
افترا بندی چھوڑ دو ٭٭…
مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ ” دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں؟“
ہر امت میں