القصص 28:86 وما كنت ترجو ان يلقى اليك الكتاب الا رحمة من ربك فلا تكونن ظهيرا للكافرين ٨٦
وَمَا
كُنْتَ
تَرْجُوْۤا
اَنْ
یُّلْقٰۤی
اِلَیْكَ
الْكِتٰبُ
اِلَّا
رَحْمَةً
مِّنْ
رَّبِّكَ
فَلَا
تَكُوْنَنَّ
ظَهِیْرًا
لِّلْكٰفِرِیْنَ
۟ؗ
اور (اے نبی ﷺ !) آپ کو تو کوئی توقع نہیں تھی کہ آپ پر کتاب القا کی جائے گی یہ تو محض آپ ﷺ کے رب کی رحمت سے ہے پس آپ ﷺ کافروں کے پشت پناہ نہ بنیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جو کرو گے سو بھرو گے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف واپس لے جانے والا ہے اور وہاں نبوت کی بابت پرستش ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُ
جو کرو گے سو بھرو گے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف