القيامة 75:14 بل الانسان على نفسه بصيرة ١٤
بَلِ
الْاِنْسَانُ
عَلٰی
نَفْسِهٖ
بَصِیْرَةٌ
۟ۙ
بلکہ انسان تو اپنے نفس کے احوال پر خود ہی خوب بصیرت رکھتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَ
باب…
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھی