الواقعة 56:82 وتجعلون رزقكم انكم تكذبون ٨٢
وَتَجْعَلُوْنَ
رِزْقَكُمْ
اَنَّكُمْ
تُكَذِّبُوْنَ
۟
اور تم نے اپنا نصیب یہ ٹھہرا لیا ہے کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قرآن کا مقام ٭٭…
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔
جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] جواب ق
قرآن کا مقام ٭٭…
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔
جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں ا