آل عمران 3:104 ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر واولايك هم المفلحون ١٠٤
وَلْتَكُنْ
مِّنْكُمْ
اُمَّةٌ
یَّدْعُوْنَ
اِلَی
الْخَیْرِ
وَیَاْمُرُوْنَ
بِالْمَعْرُوْفِ
وَیَنْهَوْنَ
عَنِ
الْمُنْكَرِ ؕ
وَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ
۟
تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان ٭٭…
سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ رضی اللہ عنہم اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہدین اور علماء [تفسیر ابن جریر الطبری:92/7]
امام ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مر
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان ٭٭…
سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ رضی اللہ عنہم اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہدین اور ع