آل عمران 3:117 مثل ما ينفقون في هاذه الحياة الدنيا كمثل ريح فيها صر اصابت حرث قوم ظلموا انفسهم فاهلكته وما ظلمهم الله ولاكن انفسهم يظلمون ١١٧
مَثَلُ
مَا
یُنْفِقُوْنَ
فِیْ
هٰذِهِ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
كَمَثَلِ
رِیْحٍ
فِیْهَا
صِرٌّ
اَصَابَتْ
حَرْثَ
قَوْمٍ
ظَلَمُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
فَاَهْلَكَتْهُ ؕ
وَمَا
ظَلَمَهُمُ
اللّٰهُ
وَلٰكِنْ
اَنْفُسَهُمْ
یَظْلِمُوْنَ
۟
دنیا کی اس زندگی میں یہ لوگ جو بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک زور دار آندھی جس میں پالا ہو وہ کسی ایسی قوم کی کھیتی کو آپڑے جس نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو پھر وہ اس (کھیتی) کو تباہ و برباد اور تہس نہس کر کے رکھ دے اور ان پر اللہ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھا رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ظلم نہیں سزا ٭٭…
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صر
ظلم نہیں سزا ٭٭…
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ ع