آل عمران 3:136 اولايك جزاوهم مغفرة من ربهم وجنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ونعم اجر العاملين ١٣٦
اُولٰٓىِٕكَ
جَزَآؤُهُمْ
مَّغْفِرَةٌ
مِّنْ
رَّبِّهِمْ
وَجَنّٰتٌ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ
فِیْهَا ؕ
وَنِعْمَ
اَجْرُ
الْعٰمِلِیْنَ
۟ؕ
یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کا بدلہ ہے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ باغات کہ جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور کیا ہی اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کے لیے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
استغفار کرنا ٭٭…
پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہو گیا تو معاف ف
استغفار کرنا ٭٭…
پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول ا