آل عمران 3:140 ان يمسسكم قرح فقد مس القوم قرح مثله وتلك الايام نداولها بين الناس وليعلم الله الذين امنوا ويتخذ منكم شهداء والله لا يحب الظالمين ١٤٠
اِنْ
یَّمْسَسْكُمْ
قَرْحٌ
فَقَدْ
مَسَّ
الْقَوْمَ
قَرْحٌ
مِّثْلُهٗ ؕ
وَتِلْكَ
الْاَیَّامُ
نُدَاوِلُهَا
بَیْنَ
النَّاسِ ۚ
وَلِیَعْلَمَ
اللّٰهُ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَیَتَّخِذَ
مِنْكُمْ
شُهَدَآءَ ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یُحِبُّ
الظّٰلِمِیْنَ
۟ۙ
اگر تم زخمی ہوئے ہو تو تمہارے مخالف لوگ بھی تو ایسے ہی زخمی ہو چکے ہیں، ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں1 ۔ (شکست احد) اس لئے تھی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ﻇاہر کردے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شہادت اور بشارت ٭٭…
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کی
شہادت اور بشارت ٭٭…
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دین