آل عمران 3:147 وما كان قولهم الا ان قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا واسرافنا في امرنا وثبت اقدامنا وانصرنا على القوم الكافرين ١٤٧
وَمَا
كَانَ
قَوْلَهُمْ
اِلَّاۤ
اَنْ
قَالُوْا
رَبَّنَا
اغْفِرْ
لَنَا
ذُنُوْبَنَا
وَاِسْرَافَنَا
فِیْۤ
اَمْرِنَا
وَثَبِّتْ
اَقْدَامَنَا
وَانْصُرْنَا
عَلَی
الْقَوْمِ
الْكٰفِرِیْنَ
۟
اور ان کا تو ہر مرحلے پر یہی قول ہوتا تھا کہ وہ دعا کرتے تھے کہ اے رب ہمارے ! بخش دے ہمیں ہمارے گناہ اور اگر ہم سے اپنے کسی معاملے میں حد سے تجاوز ہوگیا ہو تو اسے معاف فرما دے اور ہمارے قدموں کو جما دے اور ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭…
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭…
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے ی