آل عمران 3:159 فبما رحمة من الله لنت لهم ولو كنت فظا غليظ القلب لانفضوا من حولك فاعف عنهم واستغفر لهم وشاورهم في الامر فاذا عزمت فتوكل على الله ان الله يحب المتوكلين ١٥٩
فَبِمَا
رَحْمَةٍ
مِّنَ
اللّٰهِ
لِنْتَ
لَهُمْ ۚ
وَلَوْ
كُنْتَ
فَظًّا
غَلِیْظَ
الْقَلْبِ
لَانْفَضُّوْا
مِنْ
حَوْلِكَ ۪
فَاعْفُ
عَنْهُمْ
وَاسْتَغْفِرْ
لَهُمْ
وَشَاوِرْهُمْ
فِی
الْاَمْرِ ۚ
فَاِذَا
عَزَمْتَ
فَتَوَكَّلْ
عَلَی
اللّٰهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُتَوَكِّلِیْنَ
۟
(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے اِن کے قصور معاف کر دو، اِن کے حق میں دعا ئے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی س