آل عمران 3:161 وما كان لنبي ان يغل ومن يغلل يات بما غل يوم القيامة ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون ١٦١
وَمَا
كَانَ
لِنَبِیٍّ
اَنْ
یَّغُلَّ ؕ
وَمَنْ
یَّغْلُلْ
یَاْتِ
بِمَا
غَلَّ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ۚ
ثُمَّ
تُوَفّٰی
كُلُّ
نَفْسٍ
مَّا
كَسَبَتْ
وَهُمْ
لَا
یُظْلَمُوْنَ
۟
ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے1 ہر خیانت کرنے واﻻ خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وه ﻇلم نہ کئے جائیں گے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی س