آل عمران 3:165 اولما اصابتكم مصيبة قد اصبتم مثليها قلتم انى هاذا قل هو من عند انفسكم ان الله على كل شيء قدير ١٦٥
اَوَلَمَّاۤ
اَصَابَتْكُمْ
مُّصِیْبَةٌ
قَدْ
اَصَبْتُمْ
مِّثْلَیْهَا ۙ
قُلْتُمْ
اَنّٰی
هٰذَا ؕ
قُلْ
هُوَ
مِنْ
عِنْدِ
اَنْفُسِكُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے1 ، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے2، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیب
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو