آل عمران 3:168 الذين قالوا لاخوانهم وقعدوا لو اطاعونا ما قتلوا قل فادرءوا عن انفسكم الموت ان كنتم صادقين ١٦٨
اَلَّذِیْنَ
قَالُوْا
لِاِخْوَانِهِمْ
وَقَعَدُوْا
لَوْ
اَطَاعُوْنَا
مَا
قُتِلُوْا ؕ
قُلْ
فَادْرَءُوْا
عَنْ
اَنْفُسِكُمُ
الْمَوْتَ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے او ران کے جو بھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ ا گروہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اُسے ٹال کر دکھا دینا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیب
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو