آل عمران 3:173 الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم ايمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل ١٧٣
اَلَّذِیْنَ
قَالَ
لَهُمُ
النَّاسُ
اِنَّ
النَّاسَ
قَدْ
جَمَعُوْا
لَكُمْ
فَاخْشَوْهُمْ
فَزَادَهُمْ
اِیْمَانًا ۖۗ
وَّقَالُوْا
حَسْبُنَا
اللّٰهُ
وَنِعْمَ
الْوَكِیْلُ
۟
وه لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لئے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ