آل عمران 3:180 ولا يحسبن الذين يبخلون بما اتاهم الله من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة ولله ميراث السماوات والارض والله بما تعملون خبير ١٨٠
وَلَا
یَحْسَبَنَّ
الَّذِیْنَ
یَبْخَلُوْنَ
بِمَاۤ
اٰتٰىهُمُ
اللّٰهُ
مِنْ
فَضْلِهٖ
هُوَ
خَیْرًا
لَّهُمْ ؕ
بَلْ
هُوَ
شَرٌّ
لَّهُمْ ؕ
سَیُطَوَّقُوْنَ
مَا
بَخِلُوْا
بِهٖ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
وَلِلّٰهِ
مِیْرَاثُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرٌ
۟۠
اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کر رہے ہیں اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے اپنے فضل میں سے کہ یہ بخل ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے اسی مال کے طوق بنا کر ان کی گردنوں میں پہنائے جائیں گے جس میں انہوں نے بخل کیا تھا قیامت کے دن اور آسمانوں اور زمین کی وراثت بالآخر اللہ ہی کے لیے ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭…
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭…
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر