آل عمران 3:198 لاكن الذين اتقوا ربهم لهم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها نزلا من عند الله وما عند الله خير للابرار ١٩٨
لٰكِنِ
الَّذِیْنَ
اتَّقَوْا
رَبَّهُمْ
لَهُمْ
جَنّٰتٌ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ
فِیْهَا
نُزُلًا
مِّنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ ؕ
وَمَا
عِنْدَ
اللّٰهِ
خَیْرٌ
لِّلْاَبْرَارِ
۟
لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان میں وه ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہے اللہ کی طرف سے اور نیک کاروں کے لئے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وه بہت ہی بہتر ہے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش، ان کی راحت و آرام، ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہو جائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان ک
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش، ان کی راحت و آرام، ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی ط