آل عمران 3:23 الم تر الى الذين اوتوا نصيبا من الكتاب يدعون الى كتاب الله ليحكم بينهم ثم يتولى فريق منهم وهم معرضون ٢٣
اَلَمْ
تَرَ
اِلَی
الَّذِیْنَ
اُوْتُوْا
نَصِیْبًا
مِّنَ
الْكِتٰبِ
یُدْعَوْنَ
اِلٰی
كِتٰبِ
اللّٰهِ
لِیَحْكُمَ
بَیْنَهُمْ
ثُمَّ
یَتَوَلّٰی
فَرِیْقٌ
مِّنْهُمْ
وَهُمْ
مُّعْرِضُوْنَ
۟
کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جن کو ملا کچھ ایک حصہ کتاب کا 1 ان کو بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ کتاب ان میں حکم کرے پھر منہ پھیرتےہیں بعضے ان میں سےتغافل کر کے 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جھوٹے دعوے ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور
جھوٹے دعوے ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدای