آل عمران 3:25 فكيف اذا جمعناهم ليوم لا ريب فيه ووفيت كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون ٢٥
فَكَیْفَ
اِذَا
جَمَعْنٰهُمْ
لِیَوْمٍ
لَّا
رَیْبَ
فِیْهِ ۫
وَوُفِّیَتْ
كُلُّ
نَفْسٍ
مَّا
كَسَبَتْ
وَهُمْ
لَا
یُظْلَمُوْنَ
۟
پس کیا حال ہوگا جبکہ ہم انہیں اس دن جمع کرینگے؟ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص اپنا اپنا کیا پورا پورا دیاجائے گا اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جھوٹے دعوے ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور
جھوٹے دعوے ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدای