آل عمران 3:30 يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضرا وما عملت من سوء تود لو ان بينها وبينه امدا بعيدا ويحذركم الله نفسه والله رءوف بالعباد ٣٠
یَوْمَ
تَجِدُ
كُلُّ
نَفْسٍ
مَّا
عَمِلَتْ
مِنْ
خَیْرٍ
مُّحْضَرًا ۛۖۚ
وَّمَا
عَمِلَتْ
مِنْ
سُوْٓءٍ ۛۚ
تَوَدُّ
لَوْ
اَنَّ
بَیْنَهَا
وَبَیْنَهٗۤ
اَمَدًاۢ
بَعِیْدًا ؕ
وَیُحَذِّرُكُمُ
اللّٰهُ
نَفْسَهٗ ؕ
وَاللّٰهُ
رَءُوْفٌۢ
بِالْعِبَادِ
۟۠
جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالٰی سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں، پہاڑوں میں، سمندروں میں، آسمانوں میں، ہواؤں میں، س
اللہ تعالٰی سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی ب