آل عمران 3:49 ورسولا الى بني اسراييل اني قد جيتكم باية من ربكم اني اخلق لكم من الطين كهيية الطير فانفخ فيه فيكون طيرا باذن الله وابري الاكمه والابرص واحيي الموتى باذن الله وانبيكم بما تاكلون وما تدخرون في بيوتكم ان في ذالك لاية لكم ان كنتم مومنين ٤٩
وَرَسُوْلًا
اِلٰی
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ ۙ۬
اَنِّیْ
قَدْ
جِئْتُكُمْ
بِاٰیَةٍ
مِّنْ
رَّبِّكُمْ ۙۚ
اَنِّیْۤ
اَخْلُقُ
لَكُمْ
مِّنَ
الطِّیْنِ
كَهَیْـَٔةِ
الطَّیْرِ
فَاَنْفُخُ
فِیْهِ
فَیَكُوْنُ
طَیْرًا
بِاِذْنِ
اللّٰهِ ۚ
وَاُبْرِئُ
الْاَكْمَهَ
وَالْاَبْرَصَ
وَاُحْیِ
الْمَوْتٰی
بِاِذْنِ
اللّٰهِ ۚ
وَاُنَبِّئُكُمْ
بِمَا
تَاْكُلُوْنَ
وَمَا
تَدَّخِرُوْنَ ۙ
فِیْ
بُیُوْتِكُمْ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیَةً
لَّكُمْ
اِنْ
كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ
۟ۚ
اور بنی اسرئیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا“۔(اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا) ”میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرشتوں کا مریم علیہا السلام سے خطاب ٭٭…
فرشتے سیدہ مریم علیہا السلام سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل
فرشتوں کا مریم علیہا السلام سے خطاب ٭٭…
فرشتے سیدہ مریم علیہا السلام سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار عالم لکھنا سکھ