آل عمران 3:64 قل يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم الا نعبد الا الله ولا نشرك به شييا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون ٦٤
قُلْ
یٰۤاَهْلَ
الْكِتٰبِ
تَعَالَوْا
اِلٰی
كَلِمَةٍ
سَوَآءٍۭ
بَیْنَنَا
وَبَیْنَكُمْ
اَلَّا
نَعْبُدَ
اِلَّا
اللّٰهَ
وَلَا
نُشْرِكَ
بِهٖ
شَیْـًٔا
وَّلَا
یَتَّخِذَ
بَعْضُنَا
بَعْضًا
اَرْبَابًا
مِّنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ ؕ
فَاِنْ
تَوَلَّوْا
فَقُوْلُوا
اشْهَدُوْا
بِاَنَّا
مُسْلِمُوْنَ
۟
تو کہہ اے اہل کتاب آؤ ایک بات کی طرف جو برابر ہے ہم میں اور تم میں کہ بندگی نہ کریں ہم مگر اللہ کی اور شریک نہ ٹھہراویں اس کا کسی کو اور نہ بناوے کوئی کسی کو رب سوا اللہ کے 1 پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو کہہ دو گواہ رہو کہ ہم تو حکم کے تابع ہیں 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہودیوں اور نصرانیوں سے خطاب ٭٭…
یہودیوں نصرانیوں اور انہی جیسے لوگوں سے یہاں خطاب ہو رہا ہے، کلمہ کا اطلاق مفید جملے پر ہوتا ہے، جیسے یہاں کلمہ کہہ کر پھر «سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ» الخ کے ساتھ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ «سَوَاءٍ» کے معنی عدل و انصاف جیسے ہم کہیں ہم تم برابر ہیں، پھر اس کی
یہودیوں اور نصرانیوں سے خطاب ٭٭…
یہودیوں نصرانیوں اور انہی جیسے لوگوں سے یہاں خطاب ہو رہا ہے، کلمہ کا اطلاق مفید جملے پر ہوتا ہے، جیسے یہاں کلمہ کہہ کر