آل عمران 3:66 ها انتم هاولاء حاججتم فيما لكم به علم فلم تحاجون فيما ليس لكم به علم والله يعلم وانتم لا تعلمون ٦٦
هٰۤاَنْتُمْ
هٰۤؤُلَآءِ
حَاجَجْتُمْ
فِیْمَا
لَكُمْ
بِهٖ
عِلْمٌ
فَلِمَ
تُحَآجُّوْنَ
فِیْمَا
لَیْسَ
لَكُمْ
بِهٖ
عِلْمٌ ؕ
وَاللّٰهُ
یَعْلَمُ
وَاَنْتُمْ
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
دیکھو تم لوگ اب تک جو بھی بحث مباحثہ کرتے رہے ہو وہ ان چیزوں کے بارے میں ہے جن کا تمہیں کچھ علم ہے تو اب تم ایسی چیزوں کے ضمن میں حجت بازی کیوں کرتے ہو جن کے بارے میں تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں ؟ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ابراہیم علیہ السلام سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید ٭٭…
یہودی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عن
ابراہیم علیہ السلام سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید ٭٭…
یہودی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام