آل عمران 3:77 ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا اولايك لا خلاق لهم في الاخرة ولا يكلمهم الله ولا ينظر اليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم ٧٧
اِنَّ
الَّذِیْنَ
یَشْتَرُوْنَ
بِعَهْدِ
اللّٰهِ
وَاَیْمَانِهِمْ
ثَمَنًا
قَلِیْلًا
اُولٰٓىِٕكَ
لَا
خَلَاقَ
لَهُمْ
فِی
الْاٰخِرَةِ
وَلَا
یُكَلِّمُهُمُ
اللّٰهُ
وَلَا
یَنْظُرُ
اِلَیْهِمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
وَلَا
یُزَكِّیْهِمْ ۪
وَلَهُمْ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
جو لوگ مول لیتے ہیں اللہ کے قرار پر اور اپنی قسموں پر تھوڑا سا مول 1 ان کا کچھ حصہ نہیں آخرت میں اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ اور نہ نگاہ کرے گا انکی طرف قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور انکے واسطے عذاب ہے دردناک 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جھوٹی قسم کھانے والے ٭٭…
یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں نہ آپ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اسی طرح جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان بدکاریوں سے وہ اس ذلیل اور فانی دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لیے
جھوٹی قسم کھانے والے ٭٭…
یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے