النحل 16:28 الذين تتوفاهم الملايكة ظالمي انفسهم فالقوا السلم ما كنا نعمل من سوء بلى ان الله عليم بما كنتم تعملون ٢٨
الَّذِیْنَ
تَتَوَفّٰىهُمُ
الْمَلٰٓىِٕكَةُ
ظَالِمِیْۤ
اَنْفُسِهِمْ ۪
فَاَلْقَوُا
السَّلَمَ
مَا
كُنَّا
نَعْمَلُ
مِنْ
سُوْٓءٍ ؕ
بَلٰۤی
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلِیْمٌۢ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
جن (کی روحوں) کو قبض کرتے ہیں فرشتے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے تو (اس وقت) وہ اطاعت پیش کریں گے کہ ہم تو کوئی برے کام نہیں کر رہے تھے (تو فرشتے کہیں گے) کیوں نہیں اللہ خوب جانتا ہے اسے جو کچھ تم کر رہے تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین کی جان کنی کا عالم ٭٭…
مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” جب فرشتے ان کی جان لینے کے لیے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں “۔
«وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعا
مشرکین کی جان کنی کا عالم ٭٭…
مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” جب فرشتے ان کی جان لینے کے لیے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور