النمل 27:32 قالت يا ايها الملا افتوني في امري ما كنت قاطعة امرا حتى تشهدون ٣٢
قَالَتْ
یٰۤاَیُّهَا
الْمَلَؤُا
اَفْتُوْنِیْ
فِیْۤ
اَمْرِیْ ۚ
مَا
كُنْتُ
قَاطِعَةً
اَمْرًا
حَتّٰی
تَشْهَدُوْنِ
۟
(خط سُنا کر)ملکہ نے کہا”اے سردارانِ قوم، میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں۔“1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بلقیس کو خط ملا ٭٭…
بلقیس نے سلیمان علیہ السلام کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کر لوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگ
بلقیس کو خط ملا ٭٭…
بلقیس نے سلیمان علیہ السلام کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کر لوں، تم موجود