النمل 27:40 قال الذي عنده علم من الكتاب انا اتيك به قبل ان يرتد اليك طرفك فلما راه مستقرا عنده قال هاذا من فضل ربي ليبلوني ااشكر ام اكفر ومن شكر فانما يشكر لنفسه ومن كفر فان ربي غني كريم ٤٠
قَالَ
الَّذِیْ
عِنْدَهٗ
عِلْمٌ
مِّنَ
الْكِتٰبِ
اَنَا
اٰتِیْكَ
بِهٖ
قَبْلَ
اَنْ
یَّرْتَدَّ
اِلَیْكَ
طَرْفُكَ ؕ
فَلَمَّا
رَاٰهُ
مُسْتَقِرًّا
عِنْدَهٗ
قَالَ
هٰذَا
مِنْ
فَضْلِ
رَبِّیْ ۖ۫
لِیَبْلُوَنِیْۤ
ءَاَشْكُرُ
اَمْ
اَكْفُرُ ؕ
وَمَنْ
شَكَرَ
فَاِنَّمَا
یَشْكُرُ
لِنَفْسِهٖ ۚ
وَمَنْ
كَفَرَ
فَاِنَّ
رَبِّیْ
غَنِیٌّ
كَرِیْمٌ
۟
کہنے لگا وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں اس سے قبل کہ آپ ؑ کی نگاہ پلٹ کر آپ ؑ کی طرف آئے پھر جب اس نے دیکھا اسے اپنے سامنے رکھا ہوا اس ؑ نے کہا کہ یہ میرے رب ہی کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ کیا میں شکر ادا کرتا ہوں یا نا شکری کرتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی (بھلے کے) لیے کرتا ہے اور جو کوئی نا شکری کرتا ہے تو میرا رب یقیناً بےنیاز ہے بہت کرم کرنے والا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا ٭٭…
جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی مع
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا ٭٭…
جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ای