النمل 27:47 قالوا اطيرنا بك وبمن معك قال طايركم عند الله بل انتم قوم تفتنون ٤٧
قَالُوا
اطَّیَّرْنَا
بِكَ
وَبِمَنْ
مَّعَكَ ؕ
قَالَ
طٰٓىِٕرُكُمْ
عِنْدَ
اللّٰهِ
بَلْ
اَنْتُمْ
قَوْمٌ
تُفْتَنُوْنَ
۟
انہوں نے کہا کہ ہم منحوس سمجھتے ہیں تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اس نے کہا کہ تمہاری نحوست کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭…
صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح علیہ السلام کو رسول اللہ مان
صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭…
صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئ