النمل 27:49 قالوا تقاسموا بالله لنبيتنه واهله ثم لنقولن لوليه ما شهدنا مهلك اهله وانا لصادقون ٤٩
قَالُوْا
تَقَاسَمُوْا
بِاللّٰهِ
لَنُبَیِّتَنَّهٗ
وَاَهْلَهٗ
ثُمَّ
لَنَقُوْلَنَّ
لِوَلِیِّهٖ
مَا
شَهِدْنَا
مَهْلِكَ
اَهْلِهٖ
وَاِنَّا
لَصٰدِقُوْنَ
۟
بولے کہ آپس میں قسم کھاؤ اللہ کی کہ البتہ رات کو جا پڑیں ہم اس پر اسکے گھر پر پھر کہدیں گے اسکے دعویٰ کرنے والے کو ہم نے نہیں دیکھا جب تباہ ہوا اس کا گھر اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اونٹنی کو مار ڈالا ٭٭…
ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا گیا تھا ان کے نام یہ ہیں دعمی، دعیم، ھرما، ھریم، داب، صواب، مسطع، قدار بن سالف یہی آخری وہ شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھ
اونٹنی کو مار ڈالا ٭٭…
ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو