النمل 27:91 انما امرت ان اعبد رب هاذه البلدة الذي حرمها وله كل شيء وامرت ان اكون من المسلمين ٩١
اِنَّمَاۤ
اُمِرْتُ
اَنْ
اَعْبُدَ
رَبَّ
هٰذِهِ
الْبَلْدَةِ
الَّذِیْ
حَرَّمَهَا
وَلَهٗ
كُلُّ
شَیْءٍ ؗ
وَّاُمِرْتُ
اَنْ
اَكُوْنَ
مِنَ
الْمُسْلِمِیْنَ
۟ۙ
مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت واﻻ بنایا ہے1 ، جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہو جاؤں.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالٰی کا حکم ، اعلان ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُد
اللہ تعالٰی کا حکم ، اعلان ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عباد