النساء 4:110 ومن يعمل سوءا او يظلم نفسه ثم يستغفر الله يجد الله غفورا رحيما ١١٠
وَمَنْ
یَّعْمَلْ
سُوْٓءًا
اَوْ
یَظْلِمْ
نَفْسَهٗ
ثُمَّ
یَسْتَغْفِرِ
اللّٰهَ
یَجِدِ
اللّٰهَ
غَفُوْرًا
رَّحِیْمًا
۟
جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ﻇلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے وہ گن
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع