النساء 4:113 ولولا فضل الله عليك ورحمته لهمت طايفة منهم ان يضلوك وما يضلون الا انفسهم وما يضرونك من شيء وانزل الله عليك الكتاب والحكمة وعلمك ما لم تكن تعلم وكان فضل الله عليك عظيما ١١٣
وَلَوْلَا
فَضْلُ
اللّٰهِ
عَلَیْكَ
وَرَحْمَتُهٗ
لَهَمَّتْ
طَّآىِٕفَةٌ
مِّنْهُمْ
اَنْ
یُّضِلُّوْكَ ؕ
وَمَا
یُضِلُّوْنَ
اِلَّاۤ
اَنْفُسَهُمْ
وَمَا
یَضُرُّوْنَكَ
مِنْ
شَیْءٍ ؕ
وَاَنْزَلَ
اللّٰهُ
عَلَیْكَ
الْكِتٰبَ
وَالْحِكْمَةَ
وَعَلَّمَكَ
مَا
لَمْ
تَكُنْ
تَعْلَمُ ؕ
وَكَانَ
فَضْلُ
اللّٰهِ
عَلَیْكَ
عَظِیْمًا
۟
اور اگر نہ ہوتا تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تو قصد کر ہی چکی تھی ان میں ایک جماعت کہ تجھ کو بہکاویں اور بہکا نہیں سکتے مگر اپنے آپ کو اور تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نےاتاری تجھ پر کتاب اور حکمت اور تجھ کو سکھائیں وہ باتیں جو تو نہ جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر بہت بڑا ہے 1
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
اس کے بعد کی «وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» [4-النساء:113] کا تعلق بھی اسی واقعہ سے ہے یعنی سیدنا لبید بن عروہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بنوابیرق کے چوروں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وس
باب…
اس کے بعد کی «وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ»