النساء 4:129 ولن تستطيعوا ان تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة وان تصلحوا وتتقوا فان الله كان غفورا رحيما ١٢٩
وَلَنْ
تَسْتَطِیْعُوْۤا
اَنْ
تَعْدِلُوْا
بَیْنَ
النِّسَآءِ
وَلَوْ
حَرَصْتُمْ
فَلَا
تَمِیْلُوْا
كُلَّ
الْمَیْلِ
فَتَذَرُوْهَا
كَالْمُعَلَّقَةِ ؕ
وَاِنْ
تُصْلِحُوْا
وَتَتَّقُوْا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
غَفُوْرًا
رَّحِیْمًا
۟
بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے۔ لہذا(قانونِ الہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو۔1 اگر تم اپنا طرزِ عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭…
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لیے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دس
میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭…
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے ا