النساء 4:149 ان تبدوا خيرا او تخفوه او تعفوا عن سوء فان الله كان عفوا قديرا ١٤٩
اِنْ
تُبْدُوْا
خَیْرًا
اَوْ
تُخْفُوْهُ
اَوْ
تَعْفُوْا
عَنْ
سُوْٓءٍ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
عَفُوًّا
قَدِیْرًا
۟
(مظلوم ہونے کی صورت میں اگر چہ تم کو بد گوئی کا حق ہے ) لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جاؤ، یا کم از کم بُرائی سے درگزر کرو، تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مظلوم کو فریاد کا حق ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کر لے تو افضل یہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:344/9]
ابوداؤد میں ہے سیدہ
مظلوم کو فریاد کا حق ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم