النساء 4:22 ولا تنكحوا ما نكح اباوكم من النساء الا ما قد سلف انه كان فاحشة ومقتا وساء سبيلا ٢٢
وَلَا
تَنْكِحُوْا
مَا
نَكَحَ
اٰبَآؤُكُمْ
مِّنَ
النِّسَآءِ
اِلَّا
مَا
قَدْ
سَلَفَ ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
فَاحِشَةً
وَّمَقْتًا ؕ
وَسَآءَ
سَبِیْلًا
۟۠
اور نکاح میں نہ لاؤ جن عورتوں کو نکاح میں لائے تمہارے باپ مگر جو پہلے ہو چکا یہ بے حیائی ہے اور کام ہے غضب کا اور برا چلن ہے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے می
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے