النساء 4:64 وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما ٦٤
وَمَاۤ
اَرْسَلْنَا
مِنْ
رَّسُوْلٍ
اِلَّا
لِیُطَاعَ
بِاِذْنِ
اللّٰهِ ؕ
وَلَوْ
اَنَّهُمْ
اِذْ
ظَّلَمُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
جَآءُوْكَ
فَاسْتَغْفَرُوا
اللّٰهَ
وَاسْتَغْفَرَ
لَهُمُ
الرَّسُوْلُ
لَوَجَدُوا
اللّٰهَ
تَوَّابًا
رَّحِیْمًا
۟
ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے اور اگر وہ جبکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو وہ یقیناً اللہ کو بڑا توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا پاتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ضامن نجات ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «باذن اللہ» سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی ق
اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ضامن نجات ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے ک