النساء 4:77 الم تر الى الذين قيل لهم كفوا ايديكم واقيموا الصلاة واتوا الزكاة فلما كتب عليهم القتال اذا فريق منهم يخشون الناس كخشية الله او اشد خشية وقالوا ربنا لم كتبت علينا القتال لولا اخرتنا الى اجل قريب قل متاع الدنيا قليل والاخرة خير لمن اتقى ولا تظلمون فتيلا ٧٧
اَلَمْ
تَرَ
اِلَی
الَّذِیْنَ
قِیْلَ
لَهُمْ
كُفُّوْۤا
اَیْدِیَكُمْ
وَاَقِیْمُوا
الصَّلٰوةَ
وَاٰتُوا
الزَّكٰوةَ ۚ
فَلَمَّا
كُتِبَ
عَلَیْهِمُ
الْقِتَالُ
اِذَا
فَرِیْقٌ
مِّنْهُمْ
یَخْشَوْنَ
النَّاسَ
كَخَشْیَةِ
اللّٰهِ
اَوْ
اَشَدَّ
خَشْیَةً ۚ
وَقَالُوْا
رَبَّنَا
لِمَ
كَتَبْتَ
عَلَیْنَا
الْقِتَالَ ۚ
لَوْلَاۤ
اَخَّرْتَنَاۤ
اِلٰۤی
اَجَلٍ
قَرِیْبٍ ؕ
قُلْ
مَتَاعُ
الدُّنْیَا
قَلِیْلٌ ۚ
وَالْاٰخِرَةُ
خَیْرٌ
لِّمَنِ
اتَّقٰی ۫
وَلَا
تُظْلَمُوْنَ
فَتِیْلًا
۟
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س)ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اولین درس صبر و ضبط ٭٭…
واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب مسلمان مکہ شریف میں تھے کمزور تھے حرمت والے شہر میں تھے کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے شہر میں تھے وہ بکثرت تھے جنگی اسباب میں ہر طرح فوقیت رکھتے ہیں، اس لیے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ ان سے
اولین درس صبر و ضبط ٭٭…
واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب مسلمان مکہ شریف میں تھے کمزور تھے حرمت والے شہر میں تھے کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے