النساء 4:78 اينما تكونوا يدرككم الموت ولو كنتم في بروج مشيدة وان تصبهم حسنة يقولوا هاذه من عند الله وان تصبهم سيية يقولوا هاذه من عندك قل كل من عند الله فمال هاولاء القوم لا يكادون يفقهون حديثا ٧٨
اَیْنَمَا
تَكُوْنُوْا
یُدْرِكْكُّمُ
الْمَوْتُ
وَلَوْ
كُنْتُمْ
فِیْ
بُرُوْجٍ
مُّشَیَّدَةٍ ؕ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
حَسَنَةٌ
یَّقُوْلُوْا
هٰذِهٖ
مِنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ ۚ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
یَّقُوْلُوْا
هٰذِهٖ
مِنْ
عِنْدِكَ ؕ
قُلْ
كُلٌّ
مِّنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ ؕ
فَمَالِ
هٰۤؤُلَآءِ
الْقَوْمِ
لَا
یَكَادُوْنَ
یَفْقَهُوْنَ
حَدِیْثًا
۟
تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو پالے گی خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو کہتے ہیں کہ (اے محمد ﷺ یہ آپ کی وجہ سے ہے کہہ دیجیے سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات بھی نہیں سمجھتے !
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر فرماتا ہے موت کے پنجے سے بلند و بالا مضبوط اور مضبوظ قلعے اور محل بھی بچا نہیں سکتے۔ بعض نے کہا مراد اس سے آسمان کے برج ہیں، لیکن یہ قول ضعیف ہے صحیح یہی ہے کہ مراد محفوظ مقامات ہیں یعنی کتنی ہی حفاظت موت سے کی جائے۔ لیکن وہ اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی زہیر کا شعر ہے کہ موت سے بھاگنے و
باب…
پھر فرماتا ہے موت کے پنجے سے بلند و بالا مضبوط اور مضبوظ قلعے اور محل بھی بچا نہیں سکتے۔ بعض نے کہا مراد اس سے آسمان کے برج ہیں، لیکن یہ قول ضعیف ہ