النساء 4:83 واذا جاءهم امر من الامن او الخوف اذاعوا به ولو ردوه الى الرسول والى اولي الامر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم ولولا فضل الله عليكم ورحمته لاتبعتم الشيطان الا قليلا ٨٣
وَاِذَا
جَآءَهُمْ
اَمْرٌ
مِّنَ
الْاَمْنِ
اَوِ
الْخَوْفِ
اَذَاعُوْا
بِهٖ ؕ
وَلَوْ
رَدُّوْهُ
اِلَی
الرَّسُوْلِ
وَاِلٰۤی
اُولِی
الْاَمْرِ
مِنْهُمْ
لَعَلِمَهُ
الَّذِیْنَ
یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ
مِنْهُمْ ؕ
وَلَوْلَا
فَضْلُ
اللّٰهِ
عَلَیْكُمْ
وَرَحْمَتُهٗ
لَاتَّبَعْتُمُ
الشَّیْطٰنَ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟
جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حاﻻنکہ اگر یہ لوگ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت وه لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں1 اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوه تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں، اس سے اعراض نہ کریں، اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح و بلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ
کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں، اس سے اعراض نہ