النساء 4:89 ودوا لو تكفرون كما كفروا فتكونون سواء فلا تتخذوا منهم اولياء حتى يهاجروا في سبيل الله فان تولوا فخذوهم واقتلوهم حيث وجدتموهم ولا تتخذوا منهم وليا ولا نصيرا ٨٩
وَدُّوْا
لَوْ
تَكْفُرُوْنَ
كَمَا
كَفَرُوْا
فَتَكُوْنُوْنَ
سَوَآءً
فَلَا
تَتَّخِذُوْا
مِنْهُمْ
اَوْلِیَآءَ
حَتّٰی
یُهَاجِرُوْا
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
فَاِنْ
تَوَلَّوْا
فَخُذُوْهُمْ
وَاقْتُلُوْهُمْ
حَیْثُ
وَجَدْتُّمُوْهُمْ ۪
وَلَا
تَتَّخِذُوْا
مِنْهُمْ
وَلِیًّا
وَّلَا
نَصِیْرًا
۟ۙ
وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭…
اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی واپس لوٹ آئے تھے ان کے بارے
منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭…
اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ