النور 24:12 لولا اذ سمعتموه ظن المومنون والمومنات بانفسهم خيرا وقالوا هاذا افك مبين ١٢
لَوْلَاۤ
اِذْ
سَمِعْتُمُوْهُ
ظَنَّ
الْمُؤْمِنُوْنَ
وَالْمُؤْمِنٰتُ
بِاَنْفُسِهِمْ
خَیْرًا ۙ
وَّقَالُوْا
هٰذَاۤ
اِفْكٌ
مُّبِیْنٌ
۟
کیوں نہ جب تم نے اس کو سنا تھا خیال کیا ہوتا ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں نے اپنے لوگوں پر بھلا خیال اور کہا ہوتا یہ صریح طوفان ہے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اخلاق و آداب کی تعلیم ٭٭…
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے
اخلاق و آداب کی تعلیم ٭٭…
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں جو کلمات