النور 24:22 ولا ياتل اولو الفضل منكم والسعة ان يوتوا اولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله وليعفوا وليصفحوا الا تحبون ان يغفر الله لكم والله غفور رحيم ٢٢
وَلَا
یَاْتَلِ
اُولُوا
الْفَضْلِ
مِنْكُمْ
وَالسَّعَةِ
اَنْ
یُّؤْتُوْۤا
اُولِی
الْقُرْبٰی
وَالْمَسٰكِیْنَ
وَالْمُهٰجِرِیْنَ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ۪ۖ
وَلْیَعْفُوْا
وَلْیَصْفَحُوْا ؕ
اَلَا
تُحِبُّوْنَ
اَنْ
یَّغْفِرَ
اللّٰهُ
لَكُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیئے، بلکہ معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہیئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے1 ؟ اللہ قصوروں کو معاف فرمانے واﻻ مہربان ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دولت مند افراد سے خطاب ٭٭…
تم میں سے جو کشادہ روزی والے، صاحب مقدرت ہیں، صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہیئے کہ وہ اپنے قرابت داروں، مسکینوں، مہاجروں کو کچھ دیں گے ہی نہیں۔
اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لیے فرمایا کہ ” ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگی
دولت مند افراد سے خطاب ٭٭…
تم میں سے جو کشادہ روزی والے، صاحب مقدرت ہیں، صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہیئے کہ وہ اپنے قرا